تو بھی لگے موہوم ترے نقش قدم بھی
ٹُوٹے نہ کسی دن مِرے سجدوں کا بھرم بھی
کیا وعدۂ فردا کا کرے کوئی بھروسہ
ہے یاد مجھے تُو بھی تِرے قول و قسم بھی
لہراتا اُٹھا ہوں کسی مخموُر کی صُورت
رکھنا تھا مجھے ساقئ محفل کا بھرم بھی
بے کیف نہ بن جائیں کہیں زیست کے دو دن
گر اس میں نہ شامل ہوں تِرے جور و ستم بھی
دُنیا کا فرید ایسے ہی جینے کا مزا ہے
شامل رہے لمحاتِ مسرّت میں الم بھی
اقبال فرید میسوری
اقبال احمد خان
No comments:
Post a Comment