Wednesday, 25 February 2026

میں پھر لوٹ چلی ہوں ان نظموں کی جانب

 میں پھر لوٹ چلی ہوں

ان نظموں کی جانب

جو قلم تک آتے آتے رہ گئیں

اس کتاب کی جانب

جو تمہاری بک بک سے ادھوری رہ گئی

اس برسات کی جانب

جسے میں نے تمہارے ساتھ بھیگتے ضائع کیا

اس تنہائی کی جانب

جو تمہارے ساتھ ہوتے ہوئے مِرے اندر چیختی رہی

اس کھنڈر کی جانب

جسے میں تمہارے ہونے سے گھر کہتی رہی

اس وجود کی جانب

جسے میں نے چبا چبا کر پنجر بنا ڈالا

اس جادوگر کی جانب

جس کے کبوتر تم چُرا لے گئے

اس فراق کی جانب

جو وصل میں ستاتا رہا

ان رت جگوں کی جانب

جو اب صرف میرے نہیں

تمہارے بھی ہیں


نمرہ وارث

No comments:

Post a Comment