میں پھر لوٹ چلی ہوں
ان نظموں کی جانب
جو قلم تک آتے آتے رہ گئیں
اس کتاب کی جانب
جو تمہاری بک بک سے ادھوری رہ گئی
اس برسات کی جانب
جسے میں نے تمہارے ساتھ بھیگتے ضائع کیا
اس تنہائی کی جانب
جو تمہارے ساتھ ہوتے ہوئے مِرے اندر چیختی رہی
اس کھنڈر کی جانب
جسے میں تمہارے ہونے سے گھر کہتی رہی
اس وجود کی جانب
جسے میں نے چبا چبا کر پنجر بنا ڈالا
اس جادوگر کی جانب
جس کے کبوتر تم چُرا لے گئے
اس فراق کی جانب
جو وصل میں ستاتا رہا
ان رت جگوں کی جانب
جو اب صرف میرے نہیں
تمہارے بھی ہیں
نمرہ وارث
No comments:
Post a Comment