آج سے پہلے میں کب تیرے لیے انجان تھا
بھولنے والے مجھے، میں تو تری پہچان تھا
دل سے چین آنکھوں سے نیندیں چھین کر سب لے گیا
کس قدر بے رحم تیری یاد کا طوفان تھا
تھی زمانے کی نظر اک نشترِ غم ہر نفس
کچھ ہمارے دل میں ہی احساس کا فقدان تھا
دوسروں کی آگ میں جل کر یہ اندازہ ہوا
آپ اپنی آگ میں جلنا بہت آسان تھا
اے خدا! دے مجھ کو اتنی آبرو مندانہ موت
میرے دشمن بھی کہیں؛ عابد عظیم انسان تھا
ابرار عابد
ابرار حسین عابدی
No comments:
Post a Comment