زعفرانی کلام
مے کدۂ نگاہ سے جام پلا گیا کوئی
آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے الو بنا گیا کوئی
جذبۂ عشق کی کہاں قدر جہاں میں آج کل
سنتے ہی صرف مدعا تھانے چلا گیا کوئی
کوئے صنم میں گم تھا میں اپنے تصورات میں
ہارن بجا کے کار کا مجھ کو ڈرا گیا کوئی
ایک دیا سلائی سے کام نکل گئے ہیں دو
غیر کا سگرٹ اور میرا قلب جلا گیا کوئی
آج کے اہلِ حسن کی دیکھو ستم ظریفیاں
سن کے حدیث درد دل نسخہ لکھا گیا کوئی
بہر ستم بھی سامنے آنا بتوں کو بار ہے
بول کے ٹیلی فون پر گالی سنا گیا کوئی
لق لق دل فروش سے اچھا ہوا معاملہ
دل کو اٹھا کے لے گیا مجھ کو بٹھا گیا کوئی
حاجی لق لق
No comments:
Post a Comment