Saturday, 7 February 2026

میکدۂ نگاہ سے جام پلا گیا کوئی

 زعفرانی کلام


مے کدۂ نگاہ سے جام پلا گیا کوئی

آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے الو بنا گیا کوئی

جذبۂ عشق کی کہاں قدر جہاں میں آج کل

سنتے ہی صرف مدعا تھانے چلا گیا کوئی

کوئے صنم میں گم تھا میں اپنے تصورات میں

ہارن بجا کے کار کا مجھ کو ڈرا گیا کوئی

ایک دیا سلائی سے کام نکل گئے ہیں دو

غیر کا سگرٹ اور میرا قلب جلا گیا کوئی

آج کے اہلِ حسن کی دیکھو ستم ظریفیاں

سن کے حدیث درد دل نسخہ لکھا گیا کوئی

بہر ستم بھی سامنے آنا بتوں کو بار ہے

بول کے ٹیلی فون پر گالی سنا گیا کوئی

لق لق دل فروش سے اچھا ہوا معاملہ

دل کو اٹھا کے لے گیا مجھ کو بٹھا گیا کوئی


حاجی لق لق

No comments:

Post a Comment