فلمی گیت
وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں
میرے ہر خواب کی تعبیر بنے بیٹھے ہیں
چاند ان آنکھوں کو دیکھے تو کنول بن جائے
رات ان ہونٹوں کو چھو لے تو غزل بن جائے
ان کی زلفوں کا حال مت پوچھو
مجھ سے میرا خیال مت پوچھو
یہ تو الجھی ہوئی زنجیر بنے بیٹھے ہیں
وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں
دور جاتے ہیں تو آنکھوں کی چمک جاتی ہے
پاس آتے ہیں تو ہر سانس مہک جاتی ہے
دو گھڑی ان کے پاس رہتے ہیں
ورنہ ہم تو اداس رہتے ہیں
دل کے حالات کی تقدیر بنے بیٹھے ہیں
وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں
کبھی ساحل کبھی طوفاں نظر آتے ہیں
کبھی اپنے کبھی انجان نظر آتے ہیں
دل کی سنتا ہوں آہ کرتا ہوں
ڈرتے ڈرتے نگاہ کرتا ہوں
اک عجب شوخئ تحریر بنے بیٹھے ہیں
وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں
اختر یوسف
No comments:
Post a Comment