Wednesday, 11 February 2026

وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں

 فلمی گیت


وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں

میرے ہر خواب کی تعبیر بنے بیٹھے ہیں


چاند ان آنکھوں کو دیکھے تو کنول بن جائے

رات ان ہونٹوں کو چھو لے تو غزل بن جائے

ان کی زلفوں کا حال مت پوچھو

مجھ سے میرا خیال مت پوچھو

یہ تو الجھی ہوئی زنجیر بنے بیٹھے ہیں

وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں


دور جاتے ہیں تو آنکھوں کی چمک جاتی ہے

پاس آتے ہیں تو ہر سانس مہک جاتی ہے

دو گھڑی ان کے پاس رہتے ہیں

ورنہ ہم تو اداس رہتے ہیں

دل کے حالات کی تقدیر بنے بیٹھے ہیں

وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں


کبھی ساحل کبھی طوفاں نظر آتے ہیں

کبھی اپنے کبھی انجان نظر آتے ہیں

دل کی سنتا ہوں آہ کرتا ہوں

ڈرتے ڈرتے نگاہ کرتا ہوں

اک عجب شوخئ تحریر بنے بیٹھے ہیں

وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں


اختر یوسف

No comments:

Post a Comment