Monday, 9 February 2026

دست قاتل جب ہوا موزوں نگینے کے لیے

 دستِ قاتل جب ہوا موزوں نگینے کے لیے

دُھول بھی رکھی گئی پھر آبگینے کے لیے

کوچۂ دیوانگی سے جب سے نکلے اہلِ دل

عشق کی ذِلّت سنبھالی خوں پسینے کے لیے

کیا مجالِ تشنگی جو آئے اپنے روبرو

غم کا ساغر ساتھ رکھا ہم نے پینے کے لیے

اس لیے بدنام ہوں میں یار تیرے شہر میں

نرم لہجہ رکھ نہ پایا میں کمینے کے لیے

اے بھنور مدِ مقابل ہو مگر سن انتباہ

ہم نے ہستی کو جلایا ہے سفینے کے لیے

پیرہن اک دلرُبا کا پاس ہے جوگی مِرے

داغ دھونے کے لیے اور زخم سینے کے لیے


حفیظ جوگی

No comments:

Post a Comment