Thursday, 26 February 2026

تنور وقت کی حدت سے ڈر گئے ہم بھی

 تنور وقت کی حدت سے ڈر گئے ہم بھی

مگر تپش میں تپے تو نکھر گئے ہم بھی

جہاں پہنچ کے مسافر کے رخ بدلتے ہیں

رہ حیات کے اس موڑ پر گئے ہم بھی

جلا دیا تھا سفینہ اتر کے ساحل پر

جنون فتح میں کیا کیا نہ کر گئے ہم بھی

جدید رنگ سے مدھم ہوا نہ رنگ کہن

قدیم رنگ میں وہ رنگ بھر گئے ہم بھی

قدم قدم پہ ستم سہ کے جی رہے تھے جسے

اسی حیات کی بانہوں میں مر گئے ہم بھی

نہ کچھ جنون تجسس کا پوچھیے عالم

کہاں کہاں سے نہ کوثر گزر گئے ہم بھی


کوثر سیوانی

No comments:

Post a Comment