Friday, 13 February 2026

موت کے بعد پھر رقص ہی رقص ہے

 رقص


کھولتے آب میں

رقص کرتے ہوئے بلبلے

قابلِ غور ہیں

کیا تپش ہے جو ان کو بناتی ہے اور

اتنا مجبور کرتی ہے کہ

ناچتے ناچتے

اپنی ہستی مٹا دو

جیو تو تِھرکتے، اُچھلتے رہو

اور حِدّت کی ترسیل کرتے رہو

زندگی رقص ہے

آگہی رقص ہے

سانس لیتی ہوئی ہر گھڑی رقص ہے

رقص سے ماندگی، خامشی، بے بسی

بس یہی موت ہے

موت کے بعد پھر

رقص ہی رقص ہے


رخشندہ بتول

No comments:

Post a Comment