رقص
کھولتے آب میں
رقص کرتے ہوئے بلبلے
قابلِ غور ہیں
کیا تپش ہے جو ان کو بناتی ہے اور
اتنا مجبور کرتی ہے کہ
ناچتے ناچتے
اپنی ہستی مٹا دو
جیو تو تِھرکتے، اُچھلتے رہو
اور حِدّت کی ترسیل کرتے رہو
زندگی رقص ہے
آگہی رقص ہے
سانس لیتی ہوئی ہر گھڑی رقص ہے
رقص سے ماندگی، خامشی، بے بسی
بس یہی موت ہے
موت کے بعد پھر
رقص ہی رقص ہے
رخشندہ بتول
No comments:
Post a Comment