اُٹھ گئی ہے محبّت میرے شہر سے
آؤ چلتے ہیں ہم بھی کہیں دوستو
اپنی قسمیں، وہ وعدے، وہ اپنا بھرم
اب تو پہلے سا کچھ بھی نہیں دوستو
ساتھ چلنا تھا گرچہ یہیں تک مِرے
خواب منزل کے پھر نہ دِکھاتے مجھے
کاش معلوم ہوتا نتیجہ مجھے
الوداع تم کو کہتا وہیں دوستو
میری منزل تلک تو مِرا ساتھ دیں
کوئی وعدہ تو مجھ سے وفا کیجئے
رستہ سنسان منزل بہت دور ہے
ہم پہ اتنا کرم با خدا کیجئے
اس قدر زندگی سے میں اُکتا گیا
دم بھی گھٹنے لگا سانس رکنے لگی
اس طرح تو نہ دشمن ستائے کوئی
مجھ کو جینے کا حق تو عطا کیجئے
بے وجہ نفرتیں پالنا دلربا
بے وجہ چھوڑ جانے کی تدبیر ہے
جو رویّہ تمہارا مِرے ساتھ ہے
یہ خدا کی قسم میری تحقیر ہے
تم سے بچھڑا ہوں پھر یہ کرم کس کا ہے
میں تو تنہائی میں بھی نہ تنہا ہوا
دل کی ویرانیاں تم سے آزاد ہیں
میرے دل میں تمہاری ہی تصویر ہے
تم نے جانا تھا اک دن مجھے چھوڑ کر
تم یہ کہتے رہے میں سمجھ نہ سکا
عارضی ہے محبت یہ جیسی بھی ہو
تم یہ کہتے رہے میں سمجھ نہ سکا
جو اشارے جدائی کے تم نے دئیے
وہ تو کافی تھے گر میں سمجھتا انہیں
مجھ کو تنہا تڑپتے ہوئے چھوڑ کر
تم بھی جاؤ گے میں یہ سمجھ نہ سکا
خیر یہ تو فقط داستاں رہ گئی
ہم بلا یہ کسی کو سنائیں گے کیوں
کاش تم نہ رلاتے مجھے دلربا
لوگ انجان مجھ کو رلائیں گے کیوں
آپ کی اس محبت کا کیا ہی کہوں
کس سے حامیؔ تمہیں اس قدر پیار تھا
اجنبی تھا، ملا اور جدا ہو گیا
اجنبی کلیے دل جلائیں گے کیوں
سردار حماد منیر
No comments:
Post a Comment