Tuesday, 17 February 2026

ہمارا غم نہ رہا غم خوشی خوشی نہ رہی

 ہمارا غم نہ رہا غم خوشی خوشی نہ رہی

وہ کیا گئے کہ محبت کی زندگی نہ رہی

الٹ سکے نہ کسی مہہ جبیں کے رخ سے نقاب

ہمارے ذوق نظر میں یہ بات بھی نہ رہی

میں ان سے آج سکون حیات مانگ نہ لوں

پھر اس روش پہ توجہ رہی رہی نہ رہی

میری وفا کو وفا کیوں سمجھ لیا تم نے

خطا معاف کہ رب شان دلبری نہ رہی

رہ جنوں میں بھٹکنے سے فائدہ کیا ہے

نگاه دوست مسافر نواز ہی نہ رہی

تمہارے جلوے بھی کچھ لا سکے نہ تاب نظر

کچھ اپنے ذوق نظر میں بھی دلکشی نہ رہی

یقیں کرو کہ تمہاری قسم تمہارے لئے

وه زندگی جسے کہئے وہ زندگی نہ رہی

شب فراق کی دل تیرگی ارے توبہ

کہ شام ہی سے ستاروں میں روشنی نہ رہی


دل تاج محلی

No comments:

Post a Comment