ہمارا غم نہ رہا غم خوشی خوشی نہ رہی
وہ کیا گئے کہ محبت کی زندگی نہ رہی
الٹ سکے نہ کسی مہہ جبیں کے رخ سے نقاب
ہمارے ذوق نظر میں یہ بات بھی نہ رہی
میں ان سے آج سکون حیات مانگ نہ لوں
پھر اس روش پہ توجہ رہی رہی نہ رہی
میری وفا کو وفا کیوں سمجھ لیا تم نے
خطا معاف کہ رب شان دلبری نہ رہی
رہ جنوں میں بھٹکنے سے فائدہ کیا ہے
نگاه دوست مسافر نواز ہی نہ رہی
تمہارے جلوے بھی کچھ لا سکے نہ تاب نظر
کچھ اپنے ذوق نظر میں بھی دلکشی نہ رہی
یقیں کرو کہ تمہاری قسم تمہارے لئے
وه زندگی جسے کہئے وہ زندگی نہ رہی
شب فراق کی دل تیرگی ارے توبہ
کہ شام ہی سے ستاروں میں روشنی نہ رہی
دل تاج محلی
No comments:
Post a Comment