جب تغافل کا سلسلہ ہی نہیں
عشق کا پھر تو کچھ مزہ ہی نہیں
آنکھوں آنکھوں میں گفتگو تو ہوئی
کچھ زباں سے کہا گیا ہی نہیں
موسمِ گُل نے لی ہے انگڑائی
وحشتِ دل تجھے پتہ ہی نہیں
تیری اتنی حسین دنیا میں
بے تمنا جِیا گیا ہی نہیں
جانے کیسی ہے یہ مسیحائی
مندمل زخمِ دل ہوا ہی نہیں
توڑ دے دم کہیں نہ تشنہ لبی
توڑ دے دم کہیں نہ تشنہ لبی
اس جگہ کوئی میکدہ ہی نہیں
آخرش رو پڑے گھنے بادل
بارِ غم جب سہا گیا ہی نہیں
لاکھ چاہا کہ بھول جائیں انہیں
ہم سے ایسا کیا گیا ہی نہیں
دوستی ہے مِری سبھی سے
دشمنی کیا ہے جانتا ہی نہیں
طرب صدیقی
No comments:
Post a Comment