Tuesday, 17 February 2026

جب تغافل کا سلسلہ ہی نہیں

 جب تغافل کا سلسلہ ہی نہیں

عشق کا پھر تو کچھ مزہ ہی نہیں

آنکھوں آنکھوں میں گفتگو تو ہوئی

کچھ زباں سے کہا گیا ہی نہیں

موسمِ گُل نے لی ہے انگڑائی

وحشتِ دل تجھے پتہ ہی نہیں

تیری اتنی حسین دنیا میں

بے تمنا جِیا گیا ہی نہیں

جانے کیسی ہے یہ مسیحائی

مندمل زخمِ دل ہوا ہی نہیں

توڑ دے دم کہیں نہ تشنہ لبی

توڑ دے دم کہیں نہ تشنہ لبی

اس جگہ کوئی میکدہ ہی نہیں

آخرش رو پڑے گھنے بادل

بارِ غم جب سہا گیا ہی نہیں

لاکھ چاہا کہ بھول جائیں انہیں

ہم سے ایسا کیا گیا ہی نہیں

دوستی ہے مِری سبھی سے

دشمنی کیا ہے جانتا ہی نہیں


طرب صدیقی

No comments:

Post a Comment