بہت نڈھال بہت بد حواس لگتی ہے
یہ بھیڑ شہر کی کتنی اداس لگتی ہے
تلاش آب میں مقصد نہ فوت ہو جائے
سفر ہو سخت تو رک رک کے پیاس لگتی ہے
وہ جس سے ہم نے ہمیشہ ہی دوریاں رکھیں
اب اس کی بات میں مجھ کو مٹھاس لگتی ہے
تمہارے گاؤں کے پیپل کے اس چبوترے سے
ہوا کی آنکھ بہت روشناس لگتی ہے
زمانہ ہو گیا اس سے ملا نہیں ہوں میں
وہ اب بھی مجھ کو مگر آس پاس لگتی ہے
شکیل معین
No comments:
Post a Comment