Sunday, 22 February 2026

سفر ہو سخت تو رک رک کے پیاس لگتی ہے

 بہت نڈھال بہت بد حواس لگتی ہے

یہ بھیڑ شہر کی کتنی اداس لگتی ہے

تلاش آب میں مقصد نہ فوت ہو جائے

سفر ہو سخت تو رک رک کے پیاس لگتی ہے

وہ جس سے ہم نے ہمیشہ ہی دوریاں رکھیں

اب اس کی بات میں مجھ کو مٹھاس لگتی ہے

تمہارے گاؤں کے پیپل کے اس چبوترے سے

ہوا کی آنکھ بہت روشناس لگتی ہے

زمانہ ہو گیا اس سے ملا نہیں ہوں میں

وہ اب بھی مجھ کو مگر آس پاس لگتی ہے


شکیل معین

No comments:

Post a Comment