ہمیشہ لب پہ میٹھے بول رکھنا
محبت کے دریچے کھول رکھنا
فساد و خوف کی آب و ہوا ہے
شہر میں امن کا ماحول رکھنا
یہی تو راستے ہیں زندگی کے
خلوص و پیار میں مت جھول رکھنا
مری فطرت کا یہ شیوہ نہیں ہے
کسی کے سامنے کشکول رکھنا
محبت چاند سے بھی قیمتی ہے
نہیں آسان اس کا مول رکھنا
کسی کے واسطے کچھ بھی کہو تم
مگر الفاظ پہلے تول رکھنا
مخالف ہوں ہوائیں غم نہیں ہے
پرندوں کی طرح پر کھول رکھنا
یقیناً جیت لو گے کھیل ثروت
نظر میں زندگی کا گول رکھنا
ثروت زیدی بھوپالی
No comments:
Post a Comment