جہاں چھوڑا تھا تو اب تک وہیں ہے
مری جاں یہ محبت بھی نہیں ہے
بھروسہ تم پہ تھا سب سے زیادہ
ابھی تک تُو مرا کامل یقیں ہے
دغا جس نے دیا تھا ہم کو جاناں
ہمارے بیچ رہتا ہی کہیں ہے
یہ کیسے تو نہ مجھ کو بھول پایا
ادا یہ بھی تمہاری دل نشیں ہے
شکن لوگوں کے ماتھے پر رہے گی
چمکتی صرف تیری ہی جبیں ہے
معافی چاہتا ہوں ڈسنے والے
نوازش کر یہ میری آستیں ہے
بتا کر بات یہ میں جا رہا ہوں
ابھی کچھ اور کہنے کو نہیں ہے
بلال شبیر ہادی
No comments:
Post a Comment