Thursday, 19 February 2026

جہاں چھوڑا تھا تو اب تک وہیں ہے

 جہاں چھوڑا تھا تو اب تک وہیں ہے

مری جاں یہ محبت بھی نہیں ہے

بھروسہ تم پہ تھا سب سے زیادہ

ابھی تک تُو مرا کامل یقیں ہے

دغا جس نے دیا تھا ہم کو جاناں

ہمارے بیچ رہتا ہی کہیں ہے

یہ کیسے تو نہ مجھ کو بھول پایا

ادا یہ بھی تمہاری دل نشیں ہے

شکن لوگوں کے ماتھے پر رہے گی

چمکتی صرف تیری ہی جبیں ہے

معافی چاہتا ہوں ڈسنے والے

نوازش کر یہ میری آستیں ہے

بتا کر بات یہ میں جا رہا ہوں

ابھی کچھ اور کہنے کو نہیں ہے


بلال شبیر ہادی

No comments:

Post a Comment