Sunday, 22 February 2026

بارش ہوئی تو شہر کے تالاب بھر گئے

 بارش ہوئی تو شہر کے تالاب بھر گئے

کچھ لوگ ڈوبتے ہوئے دھل کر نکھر گئے

سورج چمک اٹھا تو نگاہیں بھٹک گئیں

آئی جو صبح نو تو بصارت سے ڈر گئے

دریا بپھر گئے تو سمندر سے جا ملے

ڈوبے جو ان کے ساتھ کنارے کدھر گئے

دلہن کی سرخ مانگ سے افشاں جو گر گئی

لمحوں کی شوخ جھیل میں تارے بکھر گئے

پھر دشت انتظار میں کھلنے لگے کنول

پلکوں سے جھانکتے ہوئے لمحے سنور گئے

بجھتے ہوئے چراغ ہتھیلی پہ جل گئے

جھونکے تمہاری یاد کے دل میں اتر گئے

سوچا تمہیں تو درد کی صدیاں پگھل گئیں

دیکھا تمہیں تو وقت کے دریا ٹھہر گئے

تم تو بھری بہار میں کھلتے رہے مگر

ہم زخم کائنات تھے کانٹوں سے بھر گئے

عشرت شب نشاط کے جگنو لیے ہوئے

ہم جشن زر نگاہ میں پریوں کے گھر گئے


عشرت رومانی

No comments:

Post a Comment