Thursday, 26 February 2026

زندگی جاتے جاتے یہ کیا کہہ گئی

 زندگی جاتے جاتے یہ کیا کہہ گئی

موت کچھ فاصلے پر کھڑی رہ گئی

کوئی بھی سخت جاں تجھ سا دیکھا نہیں

جاتے جاتے مجھے ہر بلا کہہ گئی

جو زباں نے کہی وہ ادھوری رہی

بات پوری مری خامشی کہہ گئی

مسکرائے ادھر وہ مرے حال پر

اشک بن کر ادھر آرزو بہہ گئی

کوچ سوئے عدم ہر مکیں کر گیا

اور حویلی کھڑی کی کھڑی رہ گئی

جو بھی خوبی تھی لاغر تری ذات میں

تنگ دستی کے سیلاب میں بہہ گئی


اوم پرکاش لاغر

No comments:

Post a Comment