زندگی جاتے جاتے یہ کیا کہہ گئی
موت کچھ فاصلے پر کھڑی رہ گئی
کوئی بھی سخت جاں تجھ سا دیکھا نہیں
جاتے جاتے مجھے ہر بلا کہہ گئی
جو زباں نے کہی وہ ادھوری رہی
بات پوری مری خامشی کہہ گئی
مسکرائے ادھر وہ مرے حال پر
اشک بن کر ادھر آرزو بہہ گئی
کوچ سوئے عدم ہر مکیں کر گیا
اور حویلی کھڑی کی کھڑی رہ گئی
جو بھی خوبی تھی لاغر تری ذات میں
تنگ دستی کے سیلاب میں بہہ گئی
اوم پرکاش لاغر
No comments:
Post a Comment