Friday, 27 February 2026

دل ہے بیتاب التجا کے لئے

 دل ہے بیتاب التجا کے لیے

چھیڑ دو بات ابتدا کے لیے

بوئے گل لوٹتی لٹاتی ہے

مشغلہ خوب ہے صبا کے لیے

موج طوفاں میں اب مری کشتی

ناخدا چھوڑ دے خدا کے لیے

حوصلے سے جہاں میں سب کچھ ہے

یہ دوا ہے ہر اک بلا کے لیے

تیری رحمت پہ حرف آتا ہے

ہاتھ اٹھیں اگر دعا کے لیے

شہر میں دشت میں پہاڑوں میں

ہم بھٹکتے پھرے وفا کے لیے


اوم پرکاش بجاج

No comments:

Post a Comment