دل ہے بیتاب التجا کے لیے
چھیڑ دو بات ابتدا کے لیے
بوئے گل لوٹتی لٹاتی ہے
مشغلہ خوب ہے صبا کے لیے
موج طوفاں میں اب مری کشتی
ناخدا چھوڑ دے خدا کے لیے
حوصلے سے جہاں میں سب کچھ ہے
یہ دوا ہے ہر اک بلا کے لیے
تیری رحمت پہ حرف آتا ہے
ہاتھ اٹھیں اگر دعا کے لیے
شہر میں دشت میں پہاڑوں میں
ہم بھٹکتے پھرے وفا کے لیے
اوم پرکاش بجاج
No comments:
Post a Comment