Wednesday, 12 August 2020

جو اپنی خاک پر رہتا نہیں ہے

جو اپنی خاک پر رہتا نہیں ہے
وہ رہتا ہے مگر رہتا نہیں ہے
وہ ہم کو بے خبر جتنا بھی رکھے
مگر خود بے خبر رہتا نہیں ہے
سبھی منظر بھلے لگتے ہیں دل کو
کوئی منظر مگر رہتا نہیں ہے
کسی کو سایہ تک جو دے نہ پائے
تو پھر ایسا شجر رہتا نہیں ہے 
کسی طائر کے پر کٹ جائیں بھی تو 
سدا بے بال و پر رہتا نہیں ہے
سب اپنے گھر بنا لیتے ہیں لیکن
کوئی بھی اپنے گھر رہتا نہیں ہے
بظاہر بے اثر لگتا ہے گریہ
مگر یہ بے اثر رہتا نہیں ہے

عقیل عباس

No comments:

Post a Comment