جو اپنی خاک پر رہتا نہیں ہے
وہ رہتا ہے مگر رہتا نہیں ہے
وہ ہم کو بے خبر جتنا بھی رکھے
مگر خود بے خبر رہتا نہیں ہے
سبھی منظر بھلے لگتے ہیں دل کو
کسی کو سایہ تک جو دے نہ پائے
تو پھر ایسا شجر رہتا نہیں ہے
کسی طائر کے پر کٹ جائیں بھی تو
سدا بے بال و پر رہتا نہیں ہے
سب اپنے گھر بنا لیتے ہیں لیکن
کوئی بھی اپنے گھر رہتا نہیں ہے
بظاہر بے اثر لگتا ہے گریہ
مگر یہ بے اثر رہتا نہیں ہے
عقیل عباس
No comments:
Post a Comment