ماننے کو کوئی تیار نہیں ہوتا تھا
میں جب ابھرا تھا چمکدار نہیں ہوتا تھا
ایسے شیطانی جزیرے پہ رہے ہیں ہم لوگ
سو کے اٹھتے تھے تو گھر بار نہیں ہوتا تھا
میں تو دو روز میں ہی بھول گیا ہوں تجھ کو
اتنی نفرت تھی کہ پستول لیے پھرتے تھے سب
کوئی پھولوں🎕 کا خریدار نہیں ہوتا تھا
رنج ہوتا تھا اسے سامنے آ کر میرے
میں ان آنکھوں کا گرفتار نہیں ہوتا تھا
نادر عریض
No comments:
Post a Comment