Wednesday, 12 August 2020

ماننے کو کوئی تیار نہیں ہوتا تھا

ماننے کو کوئی تیار نہیں ہوتا تھا
میں جب ابھرا تھا چمکدار نہیں ہوتا تھا
ایسے شیطانی جزیرے پہ رہے ہیں ہم لوگ
سو کے اٹھتے تھے تو گھر بار نہیں ہوتا تھا
میں تو دو روز میں ہی بھول گیا ہوں تجھ کو
یہ تِرے زخم کا معیار نہیں ہوتا تھا
اتنی نفرت تھی کہ پستول لیے پھرتے تھے سب
کوئی پھولوں🎕 کا خریدار نہیں ہوتا تھا
رنج ہوتا تھا اسے سامنے آ کر میرے
میں ان آنکھوں کا گرفتار نہیں ہوتا تھا

نادر عریض

No comments:

Post a Comment