وہ اک قدم پہ چھوٹا یہ دو قدم پہ چھوٹا
رہزن نے کارواں کو قسطوں میں کر کے لوٹا
کتنا اداس ہو کر بیٹھا ہوا ہے کوئی
اتنی تو بات طے ہے ساتھی کسی کا چھوٹا
تڑپی ہے آسماں پر جو اس طرح سے بجلی
لگتا ہے اس جہاں میں پھر دل کسی کا ٹوٹا
کیسے کہوں کہ ان کے نقشِ قدم پہ چلنا
رہبر ہی جو نہیں تھے دعویٰ تھا جن کا جھوٹا
صدیوں کی دوستی میں اب دشمنی یہ کیسی
دھاگا بہت تھا پکا آخر یہ کیسے ٹوٹا
شمشاد ان سے پوچھو ایسا بھی کیا ہوا ہے
زاہد سے وہ برہم ساقی بھی ان سے چھوٹا
شمشاد حسین
No comments:
Post a Comment