Wednesday, 6 May 2026

رہزن نے کارواں کو قسطوں میں کر کے لوٹا

وہ اک قدم پہ چھوٹا یہ دو قدم پہ چھوٹا

رہزن نے کارواں کو قسطوں میں کر کے لوٹا

کتنا اداس ہو کر بیٹھا ہوا ہے کوئی

اتنی تو بات طے ہے ساتھی کسی کا چھوٹا

تڑپی ہے آسماں پر جو اس طرح سے بجلی

لگتا ہے اس جہاں میں پھر دل کسی کا ٹوٹا

کیسے کہوں کہ ان کے نقشِ قدم پہ چلنا

رہبر ہی جو نہیں تھے دعویٰ تھا جن کا جھوٹا

صدیوں کی دوستی میں اب دشمنی یہ کیسی

دھاگا بہت تھا پکا آخر یہ کیسے ٹوٹا

شمشاد ان سے پوچھو ایسا بھی کیا ہوا ہے

زاہد سے وہ برہم ساقی بھی ان سے چھوٹا


شمشاد حسین 

No comments:

Post a Comment