Thursday, 7 May 2026

ہجر کی نار بھی اپنی اپنی لگتی ہے

 عشق بہار بھی اپنی اپنی لگتی ہے

ہجر کی نار بھی اپنی اپنی لگتی ہے

اک تیری تصویر لگائی ہے گھر میں

اب دیوار بھی اپنی اپنی لگتی ہے

اس کے سارے مہرے بھی تو میرے تھے

مجھ کو ہار بھی اپنی اپنی لگتی ہے

جس سے سچ کی گردن اس نے کاٹی ہے

وہ تلوار بھی اپنی اپنی لگتی ہے

کُونج اکیلی دیکھوں اپنا آپ لگے

پوری ڈار بھی اپنی اپنی لگتی ہے

ان کی بستی سے پھر میرا گزر ہوا

اب کی بار بھی اپنی اپنی لگتی ہے


شکیل انجم لاشاری

No comments:

Post a Comment