عشق بہار بھی اپنی اپنی لگتی ہے
ہجر کی نار بھی اپنی اپنی لگتی ہے
اک تیری تصویر لگائی ہے گھر میں
اب دیوار بھی اپنی اپنی لگتی ہے
اس کے سارے مہرے بھی تو میرے تھے
مجھ کو ہار بھی اپنی اپنی لگتی ہے
جس سے سچ کی گردن اس نے کاٹی ہے
وہ تلوار بھی اپنی اپنی لگتی ہے
کُونج اکیلی دیکھوں اپنا آپ لگے
پوری ڈار بھی اپنی اپنی لگتی ہے
ان کی بستی سے پھر میرا گزر ہوا
اب کی بار بھی اپنی اپنی لگتی ہے
شکیل انجم لاشاری
No comments:
Post a Comment