تمہاری یاد کا سورج اتر آیا ہے مغرب سے
شفق کا سرمئی آنچل نظر آیا ہے مغرب سے
نجانے ظلمتِ شب نے کیا ہے کون سا جادو
سحر کا زائچہ لِکھنے گُہر آیا ہے مغرب سے
خِرد کا دم لگا گُھٹنے، گُماں کی بجلیاں چمکیں
جنوں زادوں کا سرمایہ دِگر آیا ہے مغرب سے
محبت کے سفیروں نے نجانے صُور کیا پھونکا
وفا کے استعاروں کا ہُنر آیا ہے مغرب سے
سفیرِ دِلبراں کی خواجگی کا پوچھتے کیا ہو
لُٹا کے اپنے سارے بال و پر آیا ہے مغرب سے
محبت کا پتہ کھویا گیا تھا جس کے دامن میں
وہی ابرِ پریشاں پھر نظر آیا ہے مغرب سے
ایم زیڈ کنول
No comments:
Post a Comment