اب تو چلتا ہے فقط سانس گراوٹ سے مِرا
ڈرنے لگتا تھا کبھی دل کسی آہٹ سے مرا
چشمِ اسلوب سے تصویر کیا قامتِ اشک
رنگ بنتا تھا بہر طور بناوٹ سے مرا
دستکیں دینے سے دل ہاتھ میں اُگ آیا ہے
جسم بے طور الجھتا تھا رکاوٹ سے مرا
میں نگارندۂ تمثیل ہوں لیکن وہ پری
توڑ دیتی ہے تعلق تِری چوکھٹ سے مرا
چھپ رہا ہوں کہ مجھے چاند کہیں دیکھ نہ لے
اک سنیہا وہ اٹھا لایا ہے پنگھٹ سے مرا
عقیل ملک
No comments:
Post a Comment