خلقت کا، خواہش کا، اور در و بام کا دُکھ
ہم پہ یکساں ہے گزرتی ہوئی شام کا دکھ
میرے چہرے سے رونق یونہی نہیں اتری
حاصل ہے اور کے ساتھ تیرے نام کا دکھ
تُو اب بھی میری محبت پہ شک میں ہے
اتنا کیسے لگتا ہے بھلا فردِ عام کا دکھ
معذرت میری جان مگر سچ میں بھاری ہے
تیرے عشق پہ روٹی، اور کام کا دکھ
ہم پہ لازم ہے شاویز اصولوں سے بغاوت کرنا
ہم پہ واجب ہے اب اظہارِ سرِ عام کا دکھ
شاویز احسن
No comments:
Post a Comment