Saturday, 16 April 2022

لہجہ عجیب حرف سبھی ان سنے لگے

 لہجہ عجیب حرف سبھی ان سنے لگے

جیسے کوئی کسی کی زباں بولنے لگے

یوں گریۂ حیات کی تضحیک کی گئی

رونا تھا جس جگہ پہ وہاں قہقہے لگے

ہوتا ہے حسن دیکھنے والے کی آنکھ میں

وہ اتنے کب حسین تھے، جتنے مجھے لگے

پُرسہ دیا گیا مِرے احساس کا مجھے

دنیا جہاں کے درد مِرے آ گلے لگے

دشمن کے مورچے میں نہتے کھڑے ہیں آج

ہم زندگی کے ہاتھ لگے اور برے لگے

شاید غلط جواب کی مانند لوگ تھے

کومل! ہمارے گرد بہت دائرے لگے


کومل جوئیہ

No comments:

Post a Comment