لہجہ عجیب حرف سبھی ان سنے لگے
جیسے کوئی کسی کی زباں بولنے لگے
یوں گریۂ حیات کی تضحیک کی گئی
رونا تھا جس جگہ پہ وہاں قہقہے لگے
ہوتا ہے حسن دیکھنے والے کی آنکھ میں
وہ اتنے کب حسین تھے، جتنے مجھے لگے
پُرسہ دیا گیا مِرے احساس کا مجھے
دنیا جہاں کے درد مِرے آ گلے لگے
دشمن کے مورچے میں نہتے کھڑے ہیں آج
ہم زندگی کے ہاتھ لگے اور برے لگے
شاید غلط جواب کی مانند لوگ تھے
کومل! ہمارے گرد بہت دائرے لگے
کومل جوئیہ
No comments:
Post a Comment