Saturday, 16 April 2022

بجھ گئے سب دیے جب سے تو نہ رہی

 بجھ گئے سب دِیے جب سے تُو نہ رہی

بِن تِرے اب کوئی آرزو نہ رہی

عشق میں چھن گئی خوش کلامی مِری

اب مِری پہلے سی گفتگو نہ رہی

زخم کھا کر بھی ہم مسکراتے رہے

زخم کو اب امیدِ رفو نہ رہی

مے کدے میں جو جامِ سفال نہیں

مے کدے جانے کی آرزو نہ رہی

پہلے تھی خوب سے خوب تر کی تلاش

اب کسی کی ہمیں جستجو نہ رہی

ساقی آزاد کر مے کدے سے ہمیں

اب ہماری یہاں آبرو نہ رہی


ارسلان احمد عاکف

No comments:

Post a Comment