وہ مدد کے لیے اپنوں کو پُکارے جائیں
ہائے وہ لوگ جو پردیس میں مارے جائیں
روز پیغام ہوا لاتی تھی گھر میں جن کا
ان کے تابوت جہازوں سے اتارے جائیں
تم مہذب ہی سہی،۔ غیر مہذب ہونا
جرم ایسا نہیں جس لے لیے مارے جائیں
زندہ رہنے کے لیے سخت ضروری ہے میاں
اپنے چہرے پہ نئے نقش ابھارے جائیں
مار دیتا ہے کبوتر وہ فضا میں شاہد
جو کسی طور نہ چھتری پہ اتارے جائیں
شاہد اشرف
No comments:
Post a Comment