Saturday, 16 April 2022

ایک روز ہوئے تھے کچھ اشارات خفی سے

 ایک روز ہوئے تھے کچھ اشاراتِ خفی سے

عاشق ہیں ہم اس نرگسِ رعنا کے جبھی سے

کرنے کو ہیں دور آج تو یہ روگ ہی جی سے

اب رکھیں گے ہم پیار نہ تم سے نہ کسی سے

احباب سے رکھتا ہوں کچھ امیدِ شرافت

رہتے ہیں خفا مجھ سے بہت لوگ اسی سے

کہتا ہوں اسے میں تو خصوصیت پنہاں

کچھ تم کو شکایت ہے کسی سے تو مجھی سے

اشعار نہیں ہیں یہ مِری روح کی ہے پیاس

جاری ہوئے سرچشمے مِری تشنہ لبی سے

آنسو کو مِرے کھیل تماشا نہ سمجھنا

کٹ جاتا ہے پتھر اسی ہیرے کی کنی سے

یادِ لبِ جاناں ہے،۔ چراغِ دلِ رنجور

روشن ہے یہ گھر آج اسی لعلِ یمنی سے

افلاک کی محراب ہے آئی ہوئی انگڑائی

بے کیف کچھ آفاق کی اعضاء شکنی سے

کچھ زیر لب الفاظ کھنکتے ہیں فضا میں

گونجی ہوئی ہے بزم تِری کم سخنی سے

آج انجمنِ عشق نہیں انجمنِ عشق

کس درجہ کمی بزم میں ہے تیری کمی سے

اس وادئ ویراں میں ہے سرچشمۂ دل بھی

ہستی مِری سیراب ہے آنکھوں کی نمی سے

خود مجھ کو بھی تا دیر خبر ہو نہیں پائی

آج آئی تِری یاد، اس آہستہ روی سے

وہ ڈھونڈنے نکلی ہے تِری نکہتِ گیسو

اک روز ملا تھا میں نسیمِ سحری سے

سب کچھ وہ دلا دے مجھے سب کچھ وہ بنا دے

اے دوست! نہیں دور تِری کم نگہی سے

معیادِ دوام و ابد اک نیند ہے اس کی

ہم منتہائے جلوۂ جاناں ہیں ابھی سے

اک دل کے سوا، پاس ہمارے نہیں کچھ بھی

جو کام ہو لے لیتے ہیں ہم لوگ اسی سے

معلوم ہوا اور ہے اک عالمِ اسرار

آئینۂ ہستی کی پریشاں نظری سے

اس سے تو کہیں بیٹھ رہے توڑ کے اب پاؤں

مل جائے نجات عشق کو اس دربدری سے

رہتا ہوں فراق اس لیے وارفتہ کہ دنیا

کچھ ہوش میں آ جائے مِری بے خبری سے


فراق گورکھپوری

No comments:

Post a Comment