رہن رکھ آئے تھے سر تیشہ نہیں رکھا تھا
ہم نے دل میں کوئی اندیشہ نہیں رکھا تھا
ہم نے پتھر تو اٹھائے تھے حفاظت کے لیے
اپنے قدموں کو سرِ بیشہ نہیں رکھا تھا
ہفت افلاک کے بخیوں کو رفو کر آئے
ہم نے کھیسے میں کوئی ریشہ نہیں رکھا تھا
بے نیازی سے کیا کارِ تحیر کو تمام
دل نے تب دشت گری پیشہ نہیں رکھا تھا
تم نے خود حجرۂ وحشت میں قدم رکھا ہے
ہم نے یہ عذر بھی درویشا! نہیں رکھا تھا
کسی دربار میں تسلیم کہاں ہو جاتے
ہم نے دامن ہی طلب کیشہ نہیں رکھا تھا
عقیل ملک
No comments:
Post a Comment