Saturday, 12 February 2022

رہن رکھ آئے تھے سر تیشہ نہیں رکھا تھا

 رہن رکھ آئے تھے سر تیشہ نہیں رکھا تھا

ہم نے دل میں کوئی اندیشہ نہیں رکھا تھا

ہم نے پتھر تو اٹھائے تھے حفاظت کے لیے

اپنے قدموں کو سرِ بیشہ نہیں رکھا تھا

ہفت افلاک کے بخیوں کو رفو کر آئے

ہم نے کھیسے میں کوئی ریشہ نہیں رکھا تھا

بے نیازی سے کیا کارِ تحیر کو تمام

دل نے تب دشت گری پیشہ نہیں رکھا تھا

تم نے خود حجرۂ وحشت میں قدم رکھا ہے

ہم نے یہ عذر بھی درویشا! نہیں رکھا تھا

کسی دربار میں تسلیم کہاں ہو جاتے

ہم نے دامن ہی طلب کیشہ نہیں رکھا تھا


عقیل ملک

No comments:

Post a Comment