Saturday, 12 February 2022

میں تیرے ساتھ میں صبح نہیں کہ شام نہیں

 میں تیرے ساتھ میں صبح نہیں کہ شام نہیں

وفا کے باب میں پھر بھی تو میرا نام نہیں

جو چاہے پی کے کرے رقص اس کو مستی میں

شرابِ عشق کسی طرح بھی حرام نہیں

یہ دنیا ایک سرائے ہے، میں مسافر ہوں

ہمیشہ کرنا ہے مجھ کو یہاں قیام نہیں

یہ دنيا والے تمہیں بدتمیز بولیں گے 

بڑوں کا گرچہ کیا تم نے احترام نہیں

یہ کہہ کےبزم سے اٹھ کر وہ چل دے دیکھو

یہ شعر و شاعری بس کا ہمارے کام نہیں

وہ اب بھی مجھکو محبت سے دیکھتا ہے اسد

یہ اور بات کے ہم میں دعا سلام نہیں


اسد ہاشمی

No comments:

Post a Comment