میں تیرے ساتھ میں صبح نہیں کہ شام نہیں
وفا کے باب میں پھر بھی تو میرا نام نہیں
جو چاہے پی کے کرے رقص اس کو مستی میں
شرابِ عشق کسی طرح بھی حرام نہیں
یہ دنیا ایک سرائے ہے، میں مسافر ہوں
ہمیشہ کرنا ہے مجھ کو یہاں قیام نہیں
یہ دنيا والے تمہیں بدتمیز بولیں گے
بڑوں کا گرچہ کیا تم نے احترام نہیں
یہ کہہ کےبزم سے اٹھ کر وہ چل دے دیکھو
یہ شعر و شاعری بس کا ہمارے کام نہیں
وہ اب بھی مجھکو محبت سے دیکھتا ہے اسد
یہ اور بات کے ہم میں دعا سلام نہیں
اسد ہاشمی
No comments:
Post a Comment