Saturday, 12 February 2022

کسی ایک ہی غم پر کتنا رویا جا سکتا ہے

 کتنا رویا جا سکتا ہے


روزانہ میرے آنسو کم پڑ جاتے ہیں

روز کہیں سے میرے بچپن کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوتی ہے

کبھی کھیتوں سے

کبھی کچرے کے ڈھیر سے

کبھی کسی ایسی جگہ پر

جہاں میں جیتے جی کبھی نہیں جا سکتی

میرے اندر موجود ایک ماں سہم جاتی ہے

ڈر جاتی ہے

روتی ہے

لیکن کسی ایک ہی غم پر کتنا رویا جا سکتا ہے


خوش بخت بانو

No comments:

Post a Comment