کتنا رویا جا سکتا ہے
روزانہ میرے آنسو کم پڑ جاتے ہیں
روز کہیں سے میرے بچپن کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوتی ہے
کبھی کھیتوں سے
کبھی کچرے کے ڈھیر سے
کبھی کسی ایسی جگہ پر
جہاں میں جیتے جی کبھی نہیں جا سکتی
میرے اندر موجود ایک ماں سہم جاتی ہے
ڈر جاتی ہے
روتی ہے
لیکن کسی ایک ہی غم پر کتنا رویا جا سکتا ہے
خوش بخت بانو
No comments:
Post a Comment