وعدوں پہ تیرے کس کو ہو اعتبار کب تک
اچھے دنوں کا آخر ہو انتظار کب تک
ظلم وستم تو کر لے جی بھر کے اے ستمگر
ظالم کے ہاتھ رہتا ہے اقتدار کب تک
مانا کہ ہاتھ میں ہے تیرے ابھی حکومت
لیکن رہے گا تجھ کو یہ اختیار کب تک
امن و سکوں کے دشمن، خود سوچ کر بتائو
پھیلا رہے گا آخر یہ انتشار کب تک
اٹھو مِرے عزیزو! تختہ پلٹ کے رکھ دو
امدادِ غیب پر ہو اب انحصار کب تک
مصطفیٰ غزالی
No comments:
Post a Comment