Saturday, 12 February 2022

وعدوں پہ تیرے کس کو ہو اعتبار کب تک

 وعدوں پہ تیرے کس کو ہو اعتبار کب تک

اچھے دنوں کا آخر ہو انتظار کب تک

ظلم وستم تو کر لے جی بھر کے اے ستمگر

ظالم کے ہاتھ رہتا ہے اقتدار کب تک

مانا کہ ہاتھ میں ہے تیرے ابھی حکومت

لیکن رہے گا تجھ کو یہ اختیار کب تک

امن و سکوں کے دشمن، خود سوچ کر بتائو

پھیلا رہے گا آخر یہ انتشار کب تک

اٹھو مِرے عزیزو! تختہ پلٹ کے رکھ دو

امدادِ غیب پر ہو اب انحصار کب تک


مصطفیٰ غزالی

No comments:

Post a Comment