Monday, 4 July 2022

نہ رکھنا خاص تم ہم کو بھلے ہی عام رکھ لینا

 نہ رکھنا خاص تم ہم کو، بھلے ہی عام رکھ لینا

مگر محفل میں تم اپنی، ہمارا نام رکھ لینا

تمہارے نام سے پہلے ہمارا نام آئے تو

ہمارے نام کو بے شک برائے نام رکھ لینا

گوارا گر نہ ہو تم کو ہمیں احباب میں رکھنا

تمہیں یہ بھی اجازت ہے، ہمیں گمنام رکھ لینا

ہمیں کب چاہیے تم سے کوئی قیمت بلاوے کی

ہمیں بے مول رکھ لینا، ہمیں بے دام رکھ لینا

ہمیں تم چھوڑ کر پیچھے بہت آگے نکل جانا

مگر اتنی گزارش ہے، قدم دو گام رکھ لینا


کاظم علی

No comments:

Post a Comment