وہی عذاب، وہیں آسرا بھی جینے کا
وہ میرا دل ہی نہیں زخم بھی ہے سینے کا
میں بے لباس ہی شیشے کے گھر میں رہتا ہوں
مجھے بھی شوق ہے اپنی طرح سے جینے کا
وہ دیکھ چاند کی پُر نُور کہکشاؤں میں
تمام رنگ ہے خُورشید کے پسینے کا
میں پُر خلوص ہوں پھاگن کی دوپہر کی طرح
تِرا مزاج لگے پوس کے مہینے کا
سمندروں کے سفر میں سنبھال کر رکھنا
کسی کنویں سے جو پانی مِلا ہے پینے کا
مینک آنکھ میں سیلاب اُٹھ نہ پائے کبھی
کہ ایک اشک مُسافر ہے اس سفینے کا
مینک اوستھی
No comments:
Post a Comment