یہ زندگی کا ہے اک سانحہ کہیں کس سے
ہمارے بیچ میں ہے فاصلہ کہیں کس سے
تمام رات تو الجھ سوار تھی مجھ پر
تبھی میں دیر سے شاید اٹھا کہیں کس سے
ہمارے پاس میں دولت کی ہے کمی شاید
ہر ایک شخص ہے ہم سے جدا کہیں کس سے
یہ شاعری ہے میاں تم سے یہ نہیں ہو گا
کسی عزیز نے مجھ سے کہا کہیں کس سے
مجھے یقین ہے وہ ساتھ چھوڑ دے گا کاش
وہ پھر سے توڑے گا یہ دل مِرا کہیں کس سے
کاشف کاش قنوجی
No comments:
Post a Comment