ہم سب پہ نحوست سی برستی تو نہیں ہے
بستی مِری فرعون کی بستی تو نہیں ہے
لگتا ہے کہ اک بار "انا البرق" کہا تھا
جلنا ہی مِرا مقصدِ ہستی تو نہیں ہے
مانا کہ اُجالوں سے ہیں مانوس سبھی لوگ
ہر آنکھ نظارے کو ترستی تو نہیں ہے
تیزاب زدہ آگ خطرناک ہے، لیکن
یہ اپنے مکانوں پر برستی تو نہیں ہے
رہ رہ کے کوئی یاد سی تڑپاتی ہے کشور
نس نس میں اُتر کر وہی ڈستی تو نہیں ہے
صلاح الدین کشور کولاری
No comments:
Post a Comment