باغی پرندے
مندروں کی گھنٹیاں شور پیدا کرتی ہیں
سات پھیرے یا تین دفعہ سر کا ہلانا
مسجدوں، مندروں میں سناٹا بڑھا دیتا ہے
گِرجا گھروں کے اندر ایک دوسرے میں پیوست ہونٹ
شہر کی تاریکی کو بڑھا دیتے ہیں
آسمان پر بکھری دھنک چوری ہو جاتی ہے
دل کو لُبھانے والے رنگ بارش میں چُھپ جاتے ہیں
دو نام کاغذ کی سطح پر گھل کر تمام عمر کے لیے کُند ہو جاتے ہیں
مگر وہ آزاد پرندے جن کا رشتہ کسی کاغذ پر نہیں بنا
جو ایک ہی وقت میں ایک دوسرے کی پناہ گاہ بھی ہیں
اور پناہ کے متلاشی مہاجر بھی
ایسے بے شناخت پرندے جلد ہی بچھڑ جاتے ہیں
مندروں کی گھنٹیاں شور پیدا کرتی ہیں
اور دلوں کو خالی کر جاتی ہیں
گِرجا گھر کی مدہم روشنی، آنکھوں کو چندھیا دیتی ہے
مسجد کی مقدس خاموشی دلوں میں ہیجان پیدا کر دیتی ہے
جب کاغذ کے رشتے جیت جاتے ہیں
تو کاغذ کا بوجھ نہ اٹھانے والے مر جاتے ہیں
سرد اکڑی ہوئی موت
روبینہ فیصل
No comments:
Post a Comment