Sunday, 20 September 2026

آموختے کا جال زباں سے لپٹ گیا

 آموختے کا جال زباں سے لپٹ گیا

بدلی ہوا تو حرف کا پانسہ پلٹ گیا

مجھ سے نکل کے ہیبت شب کا تھا سامنا

سایہ وفور خوف سے پلٹا چمٹ گیا

صد تلخیوں کی شاخ پہ بیٹھی تھی موج نیم

برگد سے آ کے جھونکا ہوا کا پلٹ گیا

تھی شہر انحصار میں پھسلن گلی گلی

میں لڑکھڑا گیا مِرا خچر رپٹ گیا

تاریک بے کنار سمندر پڑا رہا

منظر تمام غار کے اندر سمٹ گیا


مہدی جعفر

No comments:

Post a Comment