دیکھا جو اس کے بھیگے بدن کی تراش کو
مچلی بہت یہ آنکھ وہاں بود و باش کو
پتوں کی بانٹ سے تو یہ لگتا ہے چرخ نے
پھینٹا نہیں ہے ٹھیک سے قسمت کی تاش کو
چکھتے کہاں ہیں حسن کا سارا ثمر کہ ہم
معیار جانتے ہیں فقط ایک قاش کو
ناتے سبھی ہیں سانس کی ڈوری سے اس لیے
دریا قبولتا نہیں مچھلی کی لاش کو
سر پر اگرچہ برف جمی ڈھلتی عمر کی
محسوستا ہے فرقِ تلاش و معاش کو
حسین مجروح
No comments:
Post a Comment