Saturday, 12 December 2020

دیکھا جو اس کے بھیگے بدن کی تراش کو

 دیکھا جو اس کے بھیگے بدن کی تراش کو

مچلی بہت یہ آنکھ وہاں بود و باش کو

پتوں کی بانٹ سے تو یہ لگتا ہے چرخ نے

پھینٹا نہیں ہے ٹھیک سے قسمت کی تاش کو

چکھتے کہاں ہیں حسن کا سارا ثمر کہ ہم

معیار جانتے ہیں فقط ایک قاش کو

ناتے سبھی ہیں سانس کی ڈوری سے اس لیے

دریا قبولتا نہیں مچھلی کی لاش کو

سر پر اگرچہ برف جمی ڈھلتی عمر کی

محسوستا ہے فرقِ تلاش و معاش کو


حسین مجروح

No comments:

Post a Comment