Saturday, 12 December 2020

وہ زندگی سے کیا گیا دھواں اڑا کے رکھ دیا

 وہ زندگی سے کیا گیا دھواں اڑا کے رکھ دیا

مکاں کے اک ستون نے مکاں گرا کے رکھ دیا

وہ راہ سے چلا گیا، تو راہ موڑ بن گئی

مرے سفر نے راستہ کہاں چھپا کے رکھ دیا

کسی دِیے کی طرز سے گزر رہی ہے زندگی

یہاں جلا کے رکھ دیا، وہاں بجھا کے رکھ دیا

وجود کی بساط پر بڑی عجیب مات تھی

یقیں لٹا کے اٹھ گئے گماں بچا کے رکھ دیا


عاطف توقیر

No comments:

Post a Comment