Saturday, 12 December 2020

موسم گل میں خس و خار سے الجھا ہوا ہوں

 موسمِ گل میں خس و خار سے الجھا ہوا ہوں

میں وہ رستہ ہوں جو دیوار سے الجھا ہوا ہوں

وقت سے آگے نکلنے کی ہے یہ دوڑ یہاں

اور میں وقت کی رفتار سے الجھا ہوا ہوں

عین ممکن ہے یہ اقرار کی تمہید میں ہو

کس لیے میں ترے انکار سے الجھا ہوا ہوں

جوش میں یاد کہاں؟ ہوش کے ناخن لینا

کب سے اس گرمیٔ بازار سے الجھا ہوا ہوں

سب کا سب یوں ہے پڑا مالِ محبت دل میں

جبکہ ہر ایک خریدار سے الجھا ہوا ہوں

صرف اور صرف دکھاوے کیلئے آٹھوں پہر

اپنے اندر کے گنہگار سے الجھا ہوا ہوں


مسعود احمد اوکاڑوی


No comments:

Post a Comment