حضورِ عشق وہ معیار تک نہیں پہنچے
جو کم نصیب ابھی دار تک نہیں پہنچے
جو ہاتھ دستِ حنائی کی آرزو میں رہیں
حضور، وہ کبھی تلوار تک نہیں پہنچے
ہمارے نالوں سے لرزاں ہے آسمانِ خدا
یہ اور بات کہ اس یار تک نہیں پہنچے
بھرم رکھا ہے ہمارا عدو کے قامت نے
کہ ان کے ہاتھ ہی دستار تک نہیں پہنچے
ہمارے عجز سے نالاں رہے ہیں دوست تو خیر
خدا کا شکر، کہ پندار تک نہیں پہنچے
شہزاد واثق
No comments:
Post a Comment