نظمیں چھپنے لگیں رسالوں میں
رنج شامل ہوئے حوالوں میں
تھی ضرورت جہاں وہاں سے دور
دیپ جلتے رہے اجالوں میں
آخری بار اس سے ملنا ہے
ریت سی پڑ گئی نوالوں میں
روشنی ہے تمہاری آنکھوں کی
چاندنی ہے ہمارے بالوں میں
رائیگاں ہو گئی ہیں سب خوشیاں
آگہی کے کرخت گالوں میں
عاجز کمال
No comments:
Post a Comment