Monday, 7 December 2020

نظمیں چھپنے لگیں رسالوں میں

 نظمیں چھپنے لگیں رسالوں میں

رنج شامل ہوئے حوالوں میں

تھی ضرورت جہاں وہاں سے دور

دیپ جلتے رہے اجالوں میں

آخری بار اس سے ملنا ہے

ریت سی پڑ گئی نوالوں میں

روشنی ہے تمہاری آنکھوں کی

چاندنی ہے ہمارے بالوں میں

رائیگاں ہو گئی ہیں سب خوشیاں

آگہی کے کرخت گالوں میں


عاجز کمال

No comments:

Post a Comment