ہاتھوں سے اس کے ہاتھ چھڑانا تو ہے نہیں
وہ یار جیسا بھی ہے گنوانا تو ہے نہیں
کیوں بو رہے ہو دل میں محبت کے بیج کو
بنجر زمیں نے کچھ بھی اگانا تو ہے نہیں
یہ اشک، ہاتھ جوڑنا، قسمیں فضول ہیں
تجھ پر مجھے یقین اب آنا تو ہے نہیں
کس زعم پر خفا ہوں کسی کی بھی بات پر
ہم کو کسی نے آ کے منانا تو ہے نہیں
ڈھونڈو گے تم کہاں کہاں مجھ کو جہان میں
آوارگی کا ایک ٹھکانہ تو ہے نہیں
پکے یہ عہد تجھ سے بھلا کس نے کر لیے
کچے گھڑوں کا یار زمانہ تو ہے نہیں
عامر جلا نہ دوں میں یہ پھر ساری کشتیاں
واپس کسی طرح مجھے جانا تو ہے نہیں
عامر شہزاد
No comments:
Post a Comment