Monday, 7 December 2020

ہاتھوں سے اس کے ہاتھ چھڑانا تو ہے نہیں

 ہاتھوں سے اس کے ہاتھ چھڑانا تو ہے نہیں

وہ یار جیسا بھی ہے گنوانا تو ہے نہیں

کیوں بو رہے ہو دل میں محبت کے بیج کو

بنجر زمیں نے کچھ بھی اگانا تو ہے نہیں

یہ اشک، ہاتھ جوڑنا، قسمیں فضول ہیں

تجھ پر مجھے یقین اب آنا تو ہے نہیں

کس زعم پر خفا ہوں کسی کی بھی بات پر

ہم کو کسی نے آ کے منانا تو ہے نہیں

ڈھونڈو گے تم کہاں کہاں مجھ کو جہان میں

آوارگی کا ایک ٹھکانہ تو ہے نہیں

پکے یہ عہد تجھ سے بھلا کس نے کر لیے

کچے گھڑوں کا یار زمانہ تو ہے نہیں

عامر جلا نہ دوں میں یہ پھر ساری کشتیاں

واپس کسی طرح مجھے جانا تو ہے نہیں


عامر شہزاد

No comments:

Post a Comment