Monday, 7 December 2020

کون کہتا ہے کہ حالات بدل جاتے ہیں

 کون کہتا ہے کہ حالات بدل جاتے ہیں

شعبدہ گر کے کمالات بدل جاتے ہیں

ایک تبدیلی شب و روز میں آ جاتی ہے

شہر تو شہر، مضافات بدل جاتے ہیں

وقت کے ساتھ نئی سوچ جنم لیتی ہے

وقت کے ساتھ خیالات بدل جاتے ہیں

ان کے سچ جھوٹ میں تفریق بھلا کیسے ہو

جن کے ہر روز بیانات بدل جاتے ہیں

وقت کے ساتھ جو چل سکتے ہیں زہرا ان کے

دیکھتے دیکھتے دن رات بدل جاتے ہیں


زہرا جنید

No comments:

Post a Comment