کون کہتا ہے کہ حالات بدل جاتے ہیں
شعبدہ گر کے کمالات بدل جاتے ہیں
ایک تبدیلی شب و روز میں آ جاتی ہے
شہر تو شہر، مضافات بدل جاتے ہیں
وقت کے ساتھ نئی سوچ جنم لیتی ہے
وقت کے ساتھ خیالات بدل جاتے ہیں
ان کے سچ جھوٹ میں تفریق بھلا کیسے ہو
جن کے ہر روز بیانات بدل جاتے ہیں
وقت کے ساتھ جو چل سکتے ہیں زہرا ان کے
دیکھتے دیکھتے دن رات بدل جاتے ہیں
زہرا جنید
No comments:
Post a Comment