میرے ہوتے ہوئے لاحول، نہیں بن سکتا
یار یہ دل ہے، یہ کشکول نہیں بن سکتا
ایسی آنکھوں کا کرے کون بھروسا جن سے
موڈ بن سکتا ہے، ماحول نہیں بن سکتا
تجھ کو میرا نہیں بننا ہے تو چھپتا مت پھر
بس مرے سامنے آ، بول! نہیں بن سکتا
میں نے لہجے کو سکھایا ہے کہ یہ پھول رہے
تیرے کہنے سے یہ پستول نہیں بن سکتا
دونوں چاہیں تو کہیں عشق اڑا کر لے جائیں
اس پہ کیا غم کہ؛ یہاں غول نہیں بن سکتا
تیرا ہونا ہے مجھے کاربن، ایٹم جیسا
تو مُکر جائے تو *بنزول نہیں بن سکتا
شہریار حیدر
*Benzol
No comments:
Post a Comment