Monday, 7 December 2020

جنازے یوں بھی اٹھتے ہیں

 یہ عزت موت نے بخشی


جنازہ اٹھ چکا ہے اب

سڑک پر چلنے والی سینکڑوں کاروں، بسوں، جیپوں، سٹیشن ویگنوں، رکشوں

مقامی منڈیوں کا مال ڈھونے والے گڈوں، ریڑھوں، خچر گاڑیوں، تانگوں

کا اک بے ہنگم اور بھاری ٹریفک رک گیا ہے اک طرف ہو کر

پیادہ بھی کھڑے ہیں احتراماً سر جھکائے صف بہ صف ہو کر

یہ کیسا پھول ہے جس کو ملی عزت تلف ہو کر

یہ ادنیٰ آج نکلا صاحبِ عز و شرف ہو کر

یہ تکریم و ادب ہے مرنے والے کے لیے ورنہ

کسی کو زندگی میں کون آسانی سے رَستا دے

جنازہ جس گلی سے جس سڑک سے بھی گزرتا ہے

ہر اک ناآشنا بھی دو قدم میت کو کندھا دے

یہ عزت موت نے بخشی کسی کو کیا پڑی ورنہ

بغیر اُجرت کے اتنا بوجھ اپنے دوش پر لادے

یہ احساسِ مروّت ہے عطیہ مرگِ مُبرم کا

کسی زندہ کو اس جذبے سے کب کوئی سہارا دے

یہاں اس شہر کی پُرشور و پُرآشوب سڑکوں پر

کئی لوگ اپنی ہی لاشیں اٹھائے اپنے کندھوں پر

کھڑے رہتے ہیں پہروں بھیڑ میں پھنس کر انہیں رستہ نہیں ملتا

وہ تھک جاتے ہیں پر کندھا بدلنے کا کوئی عندیہ نہیں ملتا

یہ وہ بدبخت جن کے اہلِ خانہ کو کسی ہمسائے کا پُرسہ نہیں ملتا

عزیزوں میں سے بھی آتا نہیں کوئی، کسی کا تعزیت نامہ نہیں ملتا

جنازے یوں بھی اٹھتے ہیں


نجم الاصغر

No comments:

Post a Comment