کرب میں آنکھ سے بہتا ہوا نم قیمتی ہے
زندگی تیرے بیابان میں غم قیمتی ہے
شاعری دھول نہیں ہے کہ اڑا دی جائے
قافیہ وار سہولت کا ردھم قیمتی ہے
جتنی قیمت ہے ترے سامنے خوش رہنے کی
اس سے کچھ بڑھ کے مرا رنج و الم قیمتی ہے
آسماں تیری طرف دیکھ کے ہم کہتے ہیں
آسماں تیری حکومت کا بھرم قیمتی ہے
اشک لازم ہیں ترے خواب کی تصویر کے ساتھ
تھل کے صحرا میں ترا نقش قدم قیمتی ہے
عاجز کمال
No comments:
Post a Comment