ایک ترتیب سے جب اشک نمودار ہوئے
پھر یہ جانا کہ محبت میں گرفتار ہوئے
اب مری نیند کے رستے میں کھڑے رہتے ہیں
چند سائے جو مرے خوف سے تیار ہوئے
ترے بدلے ہوئے لہجے نے رویہ بدلا
ایسے بدلے کہ ترے نام سے بیزار ہوئے
اب تو کوئی بھی نہیں حال سنائیں جس کو
مدتیں ہو گئیں بے یار و مددگار ہوئے
تا دمِ مرگ سیہ پوش ہمیں رہنا ہے
یعنی ہم لوگ تو پیدا ہی عزادار ہوئے
آرب ہاشمی
No comments:
Post a Comment