Friday, 11 December 2020

باتیں پاگل ہو جاتی ہیں

 باتیں پاگل ہو جاتی ہیں


میری بند گلی کے گھر

بہت عجیب سے لگتے ہیں

محرابی دروازے

جیسے مالیخولیا کی بیماری میں

دھیرے دھیرے مرتے شخص کی

کیچ بھری آنکھیں ہوں

آگے بڑھی ہوئی بالکونیاں

جیسے احمق اور ہونق لوگوں کی

لٹکی ہوئی تھوڑیاں ہوتی ہیں

اک دوجے میں الجھے

بیٹھک، آنگن، سونے والے کمرے اور رسوئی

سارا یوں لگتا ہے

جیسے اک پاگل کی گنجل سوچیں ہوں

ان کے اندر رہنے والے

جیسے

میں بھی کیا پاگل ہوں

کیا کیا سوچتا رہتا ہوں


انوار فطرت

No comments:

Post a Comment