باتیں پاگل ہو جاتی ہیں
میری بند گلی کے گھر
بہت عجیب سے لگتے ہیں
محرابی دروازے
جیسے مالیخولیا کی بیماری میں
دھیرے دھیرے مرتے شخص کی
کیچ بھری آنکھیں ہوں
آگے بڑھی ہوئی بالکونیاں
جیسے احمق اور ہونق لوگوں کی
لٹکی ہوئی تھوڑیاں ہوتی ہیں
اک دوجے میں الجھے
بیٹھک، آنگن، سونے والے کمرے اور رسوئی
سارا یوں لگتا ہے
جیسے اک پاگل کی گنجل سوچیں ہوں
ان کے اندر رہنے والے
جیسے
میں بھی کیا پاگل ہوں
کیا کیا سوچتا رہتا ہوں
انوار فطرت
No comments:
Post a Comment